ہماری سیاست۔۔۔۔۔
اپنے ملک کی سیاست کا حال کیا لکھوں
پھنسی ہوئی ہے طواف تماش بینوں میں
ہماری سیاست ایک عجیب صورت حال میں پھنس چکی اور یہ صاف نظر آ راہ ہے اس مشکل صورتَ حال سے عوام کی جان چھڑانا مشکل سے مشکل ہوتا جا راہ ہے کیونکہ سیاستدانوں کی ترجیحات میں بڑی نمایاں تبدیلی آ چکی ہے۔ان مییں سے بعض تو بے غیرتی کی انتہائی حدوں کو چھو چکے ہیں اور کچھ ان حدوں کو چھونے کی تیاری کر رہے ہیں اور بہت سارے ان حدود کا مزاہ چک رہے ہیں اور میں امید رکھتا ہوں کہ انے والے وقت میں وہ بھی اس بے غیرتی کا مظاہرا کریں گے۔
اب مجھ سے مت پوچھیے گا کہ یہ بے غیرت کون ہیں ؟ عقل مند کے لیے اشارہ کافی ہوتا ہے لیکن پھر بھی میں اپنے معزز پڑھنے والوں کے لیے کچھ نشانیاں بتا دیتا ہوں۔
سب سے پہلے اس کلاس میں وہ لوگ آتے جو اپنی زندگی کے کسی نہ کسی دور میں پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہیں ہوے اور ہمیشہ پاکستان بننے اور پاکستان بنانے والوں کی بھرپور مخالفت کی ہے۔دوسرے لوگ وہ ہیں جو آج کل ان کا سیاست میں ساتھ دے رہے ہیں۔کیونکہ ہماری ینگ جینریشن ان کی اصل تاریخی حقیقت سے نا واقف ہیں مییں اس لیے یہاں پہ اس کا ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔ ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہم میں تعلیمی اقدار کا بہت فقدان ہےاور ہم اپنے گھٹیا سیاستدانوں کی گھٹیا سیاسی چالوں میں ا جاتے اور بہت جلد بیوقوف بن جاتے ہیں اور ہمارے سیاسی لیڈر اس کا بھرپور فایدا اٹھا کے بے چارے غریب عوام کا استحصال کرتے ہیں۔
تخلیق پاکستان سے لے کر آج تک ہماری سیاست ایک جھوٹ٫ فراڈ٫ اور واعدہ خلافی کا پلندہ ہے اور ہمارے سیاسی لیڈر الفاظ کی شعبدہ بازی کے ماہر۔ عوام گزشتہ 72 سالوں سے ان کے سیاسی تماشے دیکھ رہی ہے اور صبر کے کڑوے گھونٹ پی رہی ہے۔ کوئ ان کو روٹی ٫ کپڑا اور مکان کے نام پہ لوٹ راہ ہے تو کوئ ان کو سستا بازار کے نام پہ لیکن کوئ بھی سچے دل اور لگن سے عوام کے ساتھ نہیں کھڑا ہے۔اج تک پاکستانی عوام زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا ہے کہ ہماری سیاسی لیڈر شپ کی ترجیحات میں مکمل تبدیلی آ چکی ہے اور سیاست نے ایک کاروباری نظام کا روپ دھار لیا ہے ۔سب سیاسی لیڈر ایک کاروباری آجر کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ان کا اغراض و مقاصد عوام کی خدمت کرنا نہیں بلکہ عوام کو لوٹنا ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں انتشار کا شکار ہیں کیونکہ ان تمام سیاسی لیڈروں کے ذاتی مفادات٫ ملکی مفادات کے مقابلے میں زیادہ اہمیت کے حامل ہیں اور وہ ان کی تکمیل کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں خواہ اس میں ملک کی عزت و آبرو کو نقصان ہی کیوں نہ اٹھانا پڑے۔
موجودہ ملکی صورت حال کی سیاسی تصویر آپ کے سامنے ہے۔ملک کے اداروں کو کس طرح ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت بد نام کیا جا راہ ہے ملک کے عدالتی نظام کو اپنے ذاتی اور گھٹیا مفادات کی تکمیل کے لیے گالیاں دی جا رہی ہیں۔ آ رمی اور انٹیلیجنس ایجینسیوں کو بدنام کرنا ان سیاست دانوں کا طرا امتیاز ہے۔ کرپشن ہماری رگوں میں خون کی طرح دوڑ رہی ہے٫ لا قانونیت عام ہو گئ ہے٫ چیزوں کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کر رہی ہیں٫ انصاف ہمارے معاشرے سے ختم ہو گیا ہے٫ غریب ٫غریب تر اور امیر٫ امیر تر ہوتا جا راہ ہے۔ یہ سب حالات ان سیاست دانوں کے پیدا کردہ ہیں جو پچھلی دو دہائیوں سے اس وطن عزیز کی باگ دوڑ سنبھالے ہوئے ہیں۔
اب ان دو دہائیوں کی کرپشن اور بگاڑ کو ختم کرنے کے لیے ہمیں چار دہائیوں کی ضرورت ہے کیونکہ برائ معاشرے میں بہت تیزی سے پھیلتی ہے اور نیکی دیر سے۔روم ایک دن میں نہیں بنا تھا اور نہ ہی ریاست مدینہ ایک دن میں بنی تھی۔
Comments
Post a Comment